24 اگست، 2026، 6:13 PM

امریکہ آبنائے ہرمز کو مکمل اور مستقل بنیادوں پر کھلا نہیں رکھ سکتا، نیویارک ٹائمز

امریکہ آبنائے ہرمز کو مکمل اور مستقل بنیادوں پر کھلا نہیں رکھ سکتا، نیویارک ٹائمز

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک تجزیاتی رپورٹ میں آبنائے ہرمز کی صورتحال اور اس اہم آبی گزرگاہ پر ایران کے نمایاں اثر و رسوخ کا جائزہ لیا ہے۔

مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نیویارک ٹائمز نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیدا ہونے والی نئی حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے؛ امریکہ آبنائے ہرمز کو مکمل اور مستقل بنیادوں پر کھلا نہیں رکھ سکتا۔ لہٰذا نسبتاً کم نقصان دہ حل یہ ہوسکتا ہے کہ ایران کو محفوظ گزرنے والے بحری جہازوں سے راہ داری یا ٹرانزٹ فیس وصول کرنے کی اجازت دی جائے۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس سے عالمی منڈیوں تک تیل کی ترسیل کا ایک انتہائی اہم راستہ ہے۔ جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل اس آبنائے سے گزرتا تھا۔ تاہم ایران کے خلاف جنگ کے باعث بحری جہاز رانی کرنے والی کمپنیوں نے اپنے جہازوں کو اس راستے سے گزارنے میں احتیاط شروع کردی ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری ٹریفک کے حجم میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

امریکہ کو بحری جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت یقینی بنانے کے لیے بہت بڑے فوجی اور مالی اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے۔ دوسری جانب، ایران اپنی جغرافیائی پوزیشن اور میزائلوں، ڈرونز اور جنگی کشتیوں کے استعمال کی صلاحیت کے باعث اب بھی بحری آمد و رفت کو کنٹرول کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ چنانچہ فوجی کارروائی کے ذریعے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھلا رکھنے کی کوشش امریکہ کے لیے ایک طویل المدت اور انتہائی مہنگی ذمہ داری بن سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ایران کی جانب سے ٹرانزٹ فیس وصول کرنا ایک عملی سمجھوتا ثابت ہوسکتا ہے۔ زیادہ آمدنی حاصل کرنے کے لیے ایران کے پاس یہ ترغیب ہوگی کہ زیادہ سے زیادہ بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے، جس کے نتیجے میں مستقبل میں آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کا امکان بھی کم ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ، ٹرانزٹ فیس سے حاصل ہونے والی آمدنی ایران کو جنگ سے ہونے والے بعض نقصانات کے ازالے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔

تاہم مضمون میں یہ اعتراف بھی کیا گیا ہے کہ ایسا معاہدہ امریکہ کے لیے سیاسی شکست تصور کیا جائے گا اور اس سے ان دیگر ممالک کے لیے بھی ایک نامناسب مثال قائم ہوسکتی ہے جو اہم عالمی بحری راستوں کے قریب واقع ہیں۔ تاہم مصنف کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی منفرد جغرافیائی حیثیت اور خلیج فارس سے تیل کی برآمدات کے لیے اس کی غیر معمولی اہمیت کے باعث اس کی صورتحال کا دنیا کی دیگر آبی گزرگاہوں سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔

آخر میں، نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ ماضی کی صورتِ حال کو فوجی طاقت کے ذریعے بحال کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے، آبنائے ہرمز پر ایران کے مؤثر کنٹرول کی حقیقت کو تسلیم کیا جائے اور اسے ایک اقتصادی و علاقائی نظام میں تبدیل کیا جائے۔ مصنف کو امید ہے کہ ایسا حل عالمی معیشت اور صارفین پر دباؤ کم کرنے میں مدد دے گا اور مستقبل میں امریکی حکومتوں کو مہنگی اور غیر ضروری جنگوں میں ملوث ہونے سے بھی روک سکے گا۔

News ID 1940839

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha